
معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی بیوہ اور بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن بلقیس ایدھی 74 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئیں۔
عبدالستار ایدھی کے صاحبزارے فیصل ایدھی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بلقیس ایدھی کا انتقال ہوگیا ہے۔ فیصل ایدھی نے بتایا کہ وہ چند روز سے علیل تھی اور جمعے کی شام حالت بگڑنے پر بلقیس ایدھی کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔


یاد رہے کہ مرحومہ کو رواں ہفتے کے شروع میں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ بلقیس ایدھی کا دل کا عارضہ لاحق تھا اور اس سے قبل دو مرتبہ بائی پاس بھی ہوا تھا۔
مختصر سوانحی خاکہ:
بلقیس بانو ایدھی عبد الستار ایدھی کی بیوہ، ایک نرس اور پاکستان میں گذشتہ 6 دہائیوں سے فعال ترین مخیر حضرات میں سے ایک تھیں اور بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ تھیں۔

عبدالستار ایدھی کی سوانح حیات ’اے مِرر ٹو دی بلائنڈ‘ میں تہمینہ درانی لکھتی ہیں کہ بلقیس کو فلمیں دیکھنے کا شوق تھا اور وہ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ دوپہر کا شو دیکھتی تھیں۔ اس کے علاوہ کھارادر اور میٹھادر کی گلیوں سے چھابڑی والوں سے کچھ نہ کچھ خرید کر کھاتی تھیں۔

ایدھی ڈسپینسری میں نرس
بلقیس کی عمر 16 سال تھی جب ان کی خالہ اُنھیں ایدھی کی ڈسپینسری میں کام کے لیے لے گئی تھیں۔ اپنی سوانح حیات میں ایدھی نے تہمینہ درانی کو بتایا کہ اُنھوں نے بلقیس کی خالہ سے سوال کیا تھا کہ اس لڑکی کی عمر تو چھوٹی ہے کیا یہ سکول نہیں جاتی؟ تو خالہ نے کہا تھا کہ پورے 16 سال کی ہے لیکن اس کو پڑھنے سے رغبت نہیں، یہ بس کام کرنا چاہتی ہے۔
بلقیس ایدھی نے بتایا تھا کہ ڈاکٹروں نے ایدھی صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ نرسنگ سکول شروع کریں، اس کی اشد ضرورت ہے، جس کے بعد اُن سمیت کئی لڑکیوں نے وہاں داخلہ لیا۔

وہ بتاتی تھیں ’میں سلائی سیکھنے جاتی تھی۔ ایک روز ٹیچر نے مجھے مارا جس کے بعد میں نے کہا کہ اب وہاں نہیں جاؤں گی اور پھر میں یہاں نرسنگ میں آ گئی۔‘
ان کے فلاحوں کاموں میں ایدھی ہومز اور ملک بھر میں ایدھی مراکز میں جھولا بھی شامل ہے، جس کے ذریعے ہزاروں لاوارت بچوں کی جانیں بچالی گئیں۔ مادر پاکستان کہلانے والی بلقیس ایدھی 1947 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔
انہوں نے بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ کی حیثیت سے اپنے شوہر کے ساتھ خدمات عامہ کے لیے 1986 رومن میگسیسی اعزار (Ramon Magsaysay Award) حاصل کیا۔
حکومت پاکستان نے انہیں ان کی خدمات پر ہلال امتياز سے نوازا جبکہ بھارتی لڑکی گیتا کی دیکھ بھال کرنے پر بھارت نے انہیں 2015 میں مدر ٹریسا ایوارڈ سے نوازا تھا۔
گزشتہ برس ایک بین الاقوامی ادارے نے انہیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندے پروفریسر یانگھی لی اور امریکی سائنس دان اسٹیفن سولڈز کے ہمراہ ‘دہائی کی شخصیت’ قرار دیا تھا۔
انتقال پر تعزیت
وزیر اعظم شہباز شریف نے بلقیس ایدھی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلقیس ایدھی نے مرحوم عبدالستار ایدھی کے انسانیت کی خدمت کے مشن کو جاری رکھا۔ انہوں نے بلقیس ایدھی کو ان کی خدمات خراج عقیدت پیش کیا اور مرحومہ کے بلندی درجات اور سوگواران کو صبر جمیل کی دعا کی۔
صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے ٹوئٹر پر تعزیتی بیان میں کہا گیا کہ ‘بلقیس ایدھی صاحبہ کے انتقال کا سن کر افسوس ہوا، انہوں نے عبدالستار ایدھی کے فلاحی کاموں میں ان کا شانہ بشانہ ساتھ دیا اور ان کی وفات کے بعد بھی اس کام کو جاری رکھا’۔ انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ‘اللہ مرحومہ کی مغفرت فرمائے’۔



