
شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد کے ڈی چوک پر 10 لاکھ لوگ ضرور لے کر آجائے مگر وہ بھی عدم اعتماد کے ووٹ کو نہیں روک سکتے۔
منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتےہوئے سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کو بتانا چاہتا ہوں کہ ان کو نوٹس جاری کرنا مہنگا پڑے گا،نیب اور انٹی کرپشن کا کام مداخلت کرنا نہیں اور یہ پہلے کہاں تھے اور اب لیگی رہنما چوہدری تنویر کو کیوں گرفتار کیا گیا۔
شاہد خاقان نے کہا کہ اس حکومت کے چند دن باقی ہیں اور کسی غیر قانونی حکم پر عمل کرنا بھی غیر قانونی ہی ہے۔
لیگی رہنما نے دعویٰ کیا کہ حکومت ڈی چوک پر 10 لاکھ لوگ ضرور لے کر آجائے مگر وہ بھی عدم اعتماد کے ووٹ کو نہیں روک سکتے۔ حکومت کو یہ دھمکیاں مہنگی پڑیں گی کہ جو ارکان کو روکے گا اس پر آرٹیکل 6 لگے گا۔
شاہد خاقان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ اس موقف پر قائم ہیں کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ (ق) لیگ کو نہیں دی جاسکتی؟ ۔ اس پر انھوں نے جواب دیا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بُزدار ہی ہیں۔



