بلاگپاکستان

بابائے پشتو صحافت پیر سید سفید شاہ ہمدردؒ: ایک عظیم شخصیت

پشاور: روزنامہ وحدت پشاور کے بانی اور بابائے پشتو صحافت پیر سید سفید شاہ ہمدردؒ 24 دسمبر 2020 کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کا شمار پاکستان کي صحافتی تاریخ کی ان چند عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے جنہوں نے صحافت کو ایک مشن کے طور پر اپنایا اور قومی جذبے کے ساتھ پاکستان میں حق اور صداقت پر مبنی صحافت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا. انہوں نے نصف صدی قبل پاکستان کا پہلا اور سب سے بڑا پشتو روزنامہ شائع کر کے پشتو صحافت کی بنیادیں استوار کیں۔ آج عالمی سطح پر جہاں کہیں بھی پشتو صحافت کا چراغ روشن ہے، وہاں پیر صاحب کے زیر سایہ اور روزنامہ وحدت کے ذریعے تربیت یافتہ صحافیوں کی موجودگی ہی ان کی عظیم خدمات کا زندہ ثبوت ہے۔

پشتو صحافت کی تاریخ جب بھی قلم بند کی جائے گی، اس کے ابتدائی اور سنہری اوراق پر ایک ہی نام سب سے نمایاں نظر آئے گا پیر سید سفید شاہ ہمدردؒ۔ وہ عظیم شخصیت جنہوں نے نہ صرف نصف صدی قبل پاکستان کا پہلا اور سب سے بڑا پشتو روزنامہ روزنامہ وحدت پشاور قائم کیا، بلکہ اپنے اصولی کردار، فکری وسعت اور اعلیٰ صحافتی بصیرت کے ذریعے پشتو صحافت کو ایک منظم شکل عطا کی۔ ان کی جدوجہد نے نہ صرف پشتو زبان کے وقار کو بلند کیا بلکہ اس پورے خطے میں صحافتی شعور، فکری تربیت اور نظریاتی استقامت کی مضبوط بنیادیں رکھیں۔

آج دنیا کے جس خطے میں بھی پشتو صحافت کی روشنی دکھائی دیتی ہے، وہاں پیر صاحب کی محنت، اخلاص اور خدمات کی جھلک صاف محسوس ہوتی ہے۔
پچھلے 52 برسوں میں روزنامہ وحدت نے پشتو کے کروڑوں الفاظ قارئین تک پہنچا کر ان کو اپنی مادری زبان میں خبر و نظر سے روشناس کروایا ۔

پشتو زبان و ادب کی ایسی بے لوث خدمت اس خطے کی صحافتی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ ایک طرف اپنے دور کے صفِ اوّل کے دانشور، ادیب، شاعر، محقق اور صحافی روزنامہ وحدت سے وابستہ رہے، تو دوسری جانب پیر صاحب نے نئی نسل کے قلم کاروں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ اسی سرپرستی کے نتیجے میں آج بڑی تعداد میں پشتو کالم نگار، رپورٹر، ادیب اور شاعر موجود ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو پشتو ادب اور صحافت کو نئی جہتیں عطا کرنے میں بروئے کار لا رہے ہیں ۔
پیر سید سفید شاہ ہمدردؒ اور روزنامہ وحدت کی نصف صدی تک غیر جانبداری، اصول پسندی اور اعتدال پر مبنی پالیسی پر مضبوطی سے قائم رہنے کا نتیجہ ہے کہ آپ کی شخصیت اور اخبار دونوں غیر متنازع اور ایک باوقار مقام پر فائز رہے ہیں۔ آپ کی انہی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے دو قومی ایوارڈ عطا کیے، جب کہ افغانستان کی حکومت نے بھی ایک اعلیٰ ترین صدارتی اعزاز سے نوازا۔ عالمی پشتو کانفرنس نے آپ کو ’’بابائے پشتو صحافت‘‘ کا خطاب دے کر آپ کی علمی و صحافتی عظمت پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button