انٹر نیشنلاہم خبریں

شام: باغیوں نے حکومت کا تختہ الٹ دیا، بشارالاسد نے روس میں پناہ لےلی

ماسکو: بشار الاسد دمشق سے فرار ہو کر ماسکو پہنچ گئے ، جہاں سرکاری میڈیا کے مطابق روسی حکومت نے انہیں پناہ دے دی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج ایک ہنگامی اجلاس میں شام کی تازہ ترین صورت حال پر غور کرے گی۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کریملن کے حوالے سے بتایا کہ شام کے معزول صدر بشار الاسد ملک سے فرار ہو کر ماسکو پہنچ گئے ہیں، جہاں روسی حکومت نے انہیں پناہ دے دی ہے۔

ذرائع کے حوالے سے مزید بتایاگیا ہے کہ بشار الاسد اور ان کے اہل خانہ ماسکو پہنچ گئے ہیں اور ان سب کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی گئی ہے۔

باغیوں نے اتوار کی صبح دمشق پر قبضہ کر کے اسد کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا اور اس طرح اسد خاندان کے 50 سالہ دور حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔

فاتح باغی گروپوں نے بدھ کی صبح پانچ بجے تک کے لیے کرفیو کا اعلان کیا ہے۔ ہجوم نے ملک بھر میں جشن منایا اور کچھ  لوگ بشار الاسد کے گھر کے اندر داخل ہو گئے۔

باغیوں کی پیش قدمی کی قیادت کرنے والے حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) گروپ کے رہنما ابو محمد الجولانی نے دمشق کی اموی مسجد سے قوم سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا، ”میرے بھائیو، یہ اس خطے کے لیے ایک تاریخی فتح ہے۔‘‘

شام کے معزول صدر بشار الاسد کے ملک سے فرار ہو کر روس پہنچنے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج (پیر) کی سہ پہر بند کمرے کے ایک ہنگامی اجلاس میں شام کی تازہ ترین صورت حال پر غور کرے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے نے کئی سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس (نیویارک کے مقامی وقت کے مطابق) آج تین بجے سہ پہر طلب کیا گیا ہے۔

جبکہ روس نے شام کی صورت حال پر غور کے لیے اتوار کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی تھی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اقتدار کی منتقلی کے دوران واشنگٹن تمام شامی گروپوں کے ساتھ بات چیت کرے گا۔

جو بائیڈن نے شام میں برپا ہونے والے انقلاب کو شامیوں کے لیے اپنے ملک کی تعمیر نو کا ‘تاریخی موقع‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معزول صدر بشار الاسد کا احستاب ہونا چاہیے۔

بائیڈن نے کہا کہ ’’اسد حکومت کا خاتمہ انصاف کا ایک بنیادی عمل ہے اور یہ شام کے عوام کے لیے اپنے ملک کی تعمیر نو کا ایک تاریخی موقع ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن شامیوں کی تعمیر نو میں مدد کرے گا۔

بائیڈن کا مزید کہنا تھا، ”ہم اقوام متحدہ کی زیر قیادت  تمام شامی گروپوں کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ اسد حکومت کے بعد ایک نئے آئین کے ساتھ آزاد، خودمختار شام کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔‘‘

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ شام کے ساتھ ”دوستانہ‘‘ تعلقات جاری رکھنے کی توقع رکھتا ہے اور دمشق میں موثر کرداروں کے طرز عمل کے مطابق شام کے حوالے سے ”مناسب نقطہ نظر‘‘ اپنائے گا۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ بیجنگ شام کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امید کرتا ہے کہ شام جلد از جلد استحکام کی طرف لوٹ آئے۔

ترکی، جس نے شام میں باغی تحریکوں کی حمایت کی ہے، نے کہا کہ وہ ”شام کے زخموں پر مرہم رکھنے اور اس کے اتحاد، سالمیت اور سلامتی کی ضمانت میں مدد فراہم کرے گا۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسد کی معزولی کو ”ایران کے برائی کے محور کے زوال سے تعبیر کیا ہے۔‘‘ انہوں نے اسے ”ایران اور حزب اللہ پر اسرائیل کے وار کا براہ راست نتیجہ‘‘ قرار دیا۔

افغانستان کی طالبان حکومت نے شامی عوام اور باغیوں کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ تبدیلی ”ایک آزاد اور خدمت پر مبنی اسلامی حکومت‘‘ اور ”بیرونی مداخلت سے پاک شام‘‘ کا باعث بنے گی۔

متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر اہلکار نے شامیوں پر زور دیا کہ وہ افراتفری کو روکنے کے لیے تعاون کریں۔

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیرلائن نے کہا کہ ”خطے میں یہ تاریخی تبدیلی مواقع فراہم کرتی ہے لیکن یہ خطرات سے خالی نہیں ہے۔‘‘

جرمن چانسلر اولاف شولس نے کہا کہ برلن جنگ زدہ ملک میں امن واپس لانے کے لیے سیاسی حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بشار الاسد نے اپنے ہی لوگوں پر وحشیانہ ظلم کیا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے شام میں بشار الاسد کی ‘وحشیانہ ریاست‘ کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”میں شامی عوام کو ان کی ہمت کو، ان کے صبر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘‘

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے شہریوں اور اقلیتوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے پرامن اور مستحکم شام کا مطالبہ کیا۔

یوکرین کے وزیر خارجہ نے اسد کی رخصتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، ’’پوٹن کی حمایت پر انحصار کرنے والے آمروں کا زوال ہو گا۔‘‘

انہوں نے شام کے عوام کے لیے کییف کی حمایت کا یقین دلایا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button