
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے 2 روزہ سرکاری دورے پر ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچ گئے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور وزیر تجارت اعجاز گوہر بھی نگران وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اجلاس میں وزیراعظم اقتصادی تعاون تنظیم کے 2025 کے ویژن اور تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی، سیاحت، معاشی ترقی اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پاکستانی عزم کا اعادہ کریں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ تنظیم کے مستقبل کے کام، علاقائی روابط اور باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے پاکستان کا ویژن پیش کریں گے، جبکہ وزیراعظم ازبکستان کی قیادت اور دیگر شریک رہنماؤں کے ساتھ ملاقات بھی کریں گے۔
خیال رہے کہ اقتصادی تعاون تنظیم ایک علاقائی بین الریاستی فورم ہے، جس کی بنیاد 1985 میں تہران میں رکھی گئی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بطور بانی رکن پاکستان ای سی او کے خطے کے روابط اور باہمی خوشحالی کے اہداف کے لیے پرعزم ہے۔
ازبکستان میں پہلی بار ای سی او کا سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم ہاؤس نے میڈیا نمائندوں کو بتایا تھا کہ انوار الحق کاکڑ جمعرات کو ازبکستان سے واپس آنے کے بعد سعودی عرب کے لیے روانہ ہوں گے، جہاں وہ مسئلہ فلسطین پر اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
آج پریس کانفرنس کے دوران اپنے بین الاقوامی دوروں سے متعلق بات کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ او آئی سی کی ہنگامی کانفرنس کا مقصد غزہ میں انسانی ہمدردی کی راہداری کا قیام ہے، جہاں 7 اکتوبر سے اب تک 10 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔



