
پاکستان کو توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کے شدید مسائل کا سامنا، سرمایہ
کاری کے لیئے 155 ارب ڈالر درکار ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے توانائی سیکٹر سے متعلق آوٹ لک رپورٹ 2030 جاری کردی ہے، جس کے مطابق پاکستان کو توانائی کے شعبے میں ایک سو پچپن ارب ڈالر سرمایہ کاری درکار ہے۔ جبکہ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹریبیوشن کے بھی مسائل ہیں، اور نئی دریافت نہ ہونے کے باعث یہ شعبہ درآمدی فیول پر منحصر ہے۔
پاکستان میں 3.0 ٹیراواٹ بجلی متبادل انرجی کے ذرائع سے پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن سال 2015 سے پاکستان میں متبادل انرجی کے ذرائع سے بجلی پیداوار میں بدتریج کمی ہو رہی ہے۔
اے ڈی بی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پالیسی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں ایکسپلوریشن میں سرمایہ کاری میں فقدان ہو رہا ہے، 2019 میں پاکستان میں مقامی آئل کی پیداوار 40 لاکھ ٹن تھی اور پاکستان میں سالانہ گیس کے ذخائر میں بھی بتدریج کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
جب کہ توانائی شعبے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان سالانہ 15 لاکھ ٹن کوئلہ درآمد کر رہا ہے، اور پاکستان میں کوئلے کے ذخائر تقریباً 3 ارب ٹن ہیں۔



